Ibn-e-Umeed's Poetry 4Uاندھیری رات ٹھکانے لگا کے آتے ہیںچلو کہ اپنی صبح کو جگا کے آتے ہیںسبھی جو مان رھے ہیں، بہت اندھیرا ھےچراغ جوڑ کے سورج بنا کے آتے ہیںہجومِ شہر پہ سکتہ کہ پہل کون کرےصلیبِ شہر کو آؤ سجا کے آتے ہیںیہ رات روز جو ہم سے خراج مانگے ھےہزار سر کا چڑھاوا، چڑھا کے آتے ہیںنہیں ھے کچھ بھی بچا اب، بجز یہ زنجیریںاُٹھو یہ مال و متاع بھی، لٹا کے آتے ہیںஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜhttp://www.ibn-e-Umeed.com/★Kindly check the link above to see more poetic works of Ibn-e-Umeed. Thanks
Ibn-e-Umeed's Poetry 4U
ReplyDeleteاندھیری رات ٹھکانے لگا کے آتے ہیں
چلو کہ اپنی صبح کو جگا کے آتے ہیں
سبھی جو مان رھے ہیں، بہت اندھیرا ھے
چراغ جوڑ کے سورج بنا کے آتے ہیں
ہجومِ شہر پہ سکتہ کہ پہل کون کرے
صلیبِ شہر کو آؤ سجا کے آتے ہیں
یہ رات روز جو ہم سے خراج مانگے ھے
ہزار سر کا چڑھاوا، چڑھا کے آتے ہیں
نہیں ھے کچھ بھی بچا اب، بجز یہ زنجیریں
اُٹھو یہ مال و متاع بھی، لٹا کے آتے ہیں
ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.ibn-e-Umeed.com/
★
Kindly check the link above to see more poetic works of Ibn-e-Umeed. Thanks